کیا حکومت کو واقعی کرونا مریض چاہئیں؟

کیا حکومت کو واقعی کرونا مریض چاہئیں؟

تحریر: ارشد فاروق بٹ

عالمی وبا کرونا کے باعث ڈویژن ساہیوال میں کچھ ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں جن سے اس بات کو تقویت ملی ہے کہ حکومت کو کرونا کے مریض چاہئیں۔ کچھ لوگوں کے خیال میں حکومت اور ہسپتالوں کو  عالمی اداروں سے فی مریض بھاری معاوضہ مل رہا ہے۔

پہلا واقعہ چیچہ وطنی میں نیا بازار کے معروف تاجر ملک ایوب کے ساتھ پیش آیا جنہیں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ساہیوال کے ڈاکٹرز نے بغیر میڈیکل لیب رپورٹ کرونا وائرس کا مریض قرار دے دیا ۔ ان کے انتقال کے بعد رپورٹ نیگیٹو آ گئی۔

ان کے ڈیتھ سرٹیفکیٹ میں کورونا وائرس کا کوئی ذکر نہیں ۔ لیکن ہسپتال انتظامیہ نے میت ورثاء کے حوالے کرنے کی بجائے تحصیل میونسپل کمیٹی چیچہ وطنی کے سپرد کر دی۔ ٹی ایم اے   چیچہ وطنی نے پولیس کی مدد سے کرونا ایس او پیز کے تحت میت کی تدفین کر دی اور ورثاء کو میت کا آخری دیدار بھی نہیں کرنے دیا ۔

مرحوم محمد ایوب کے بھتیجے ملک عظیم ارشد کے مطابق  ملک ایوب زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا تھے تو ہم نے محکمہ صحت چیچہ وطنی اور ریسکیو 1122 کو امدادی کالیں دی لیکن  دونوں اداروں نے ہماری شنوائی نہیں کی۔

اس کے بعد ہم نے اپنی مدد آپکے تحت مریض کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ساہیوال شفٹ کیا۔  ہسپتال انتظامیہ نے ہمارے ساتھ ظلم کیا اور مریض پر کوئی توجہ نہ دی۔ اسی دوران ان کا انتقال ہو گیا۔ میت 6 گھنٹے وارڈ میں پڑی رہی۔

دوسرا واقعہ بھی  ڈی ایچ کیو ٹیچنگ ہسپتال ساہیوال میں پیش آیا جہاں   ڈاکٹر زنے بغیر لیبارٹری ٹیسٹ کےپاکپتن سے آئے  مریض محمد یسین کی موت کرونا وائرس سے ہونے کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کردیا.

پاکپتن کے نواحی گاوں بگی بھری داخلی چک شفیع کے رہائشی محمدیٰسین ولد محمد شریف ملک کو پاکپتن ڈی ایچ کیو سے ساہیوال ڈی ایچ کیو ریفر کیا گیا تھاجسے کرونا وارڈ میں شفٹ کردیا گیا۔

دوسرے دن مریض کی موت واقع ہوگئی جسے ایم او نے کرونا کی وجہ سے موت کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کردیا۔

متوفی کے بھائی محمد عظیم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تک ہمیں لیبارٹری ٹیسٹ کی مصدقہ رپورٹ نہیں دی گئی تو ڈاکٹر کو کیسے علم ہوا کہ میرا بھائی کرونا کا مریض ہے۔

ایک تو ہمیں بھائی کی موت کا صدمہ ہے، دوسرا لوگ ہمیں شک کی نظروں سے دیکھتے ہیں کہ شاید ہم بھی کرونا کے مریض ہیں۔

سب نے ہمارا سوشل بائیکاٹ کیا ہوا ہےجبکہ ابھی تک ہمارا کو ئی ٹیسٹ نہیں کیا گیا۔ہم شدید ذہنی تکلیف میں مبتلا ہیں۔

ان واقعات کے پیش نظر مصنف نے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال چیچہ وطنی کے ایم ایس ڈاکٹر شاہد رسول سے تفصیلی گفتگو کی ہے۔

سوال: ہسپتالوں کو کس بات کی جلدی ہے کہ بغیر رپورٹ کےمتوفی کو کرونا ڈکلیئر کر رہے ہیں؟

جواب: بہت سی ایسی بیماریاں ہیں جن کی علامات کرونا کی علامات سے ملتی جلتی ہو سکتی ہیں۔ اس لیے وبا کے پیش نظر ہم ٹیسٹ کا مشورہ دیتے ہیں۔ جب تک اس کی رپورٹ نہیں آ جاتی ، مریض کرونا کا مشتبہ مریض ہی کہلائے گا۔ بلاشبہ لواحقین کے لیے یہ تکلیف دہ ہو سکتا ہے لیکن وباء کو پھیلنے سے روکنے کی طرف یہ ایک بہتر قدم ہے تاکہ لواحقین محفوظ رہیں۔

سوال: ہسپتال کرونا کے مریضوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں، پندرہ لاکھ سے بیس لاکھ کے بل لواحقین کو ادا کرنے کو کہے گئے، کیا اس کا علاج اسقدر مہنگا ہے؟

جواب: جہاں تک سرکاری ہسپتالوں کی بات ہے تو تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال چیچہ وطنی اور ضلع کے دیگرسرکاری  ہسپتالوں میں اس کا علاج مفت کیا جا رہا ہے۔ ہمارے ہاں بھی آئسولیشن وارڈ میں ایک مریض موجود ہے ، آپ اس سے معلومات لے سکتے ہیں۔ تاہم پرائیویٹ ہسپتالوں کے اخراجات کے حوالے سے وہ بہتر بتا سکتے ہیں۔

سوال: کرونا کے مریضوں کو جو انجیکشن لگایا جا رہا ہے، اس کے بارے میں سوشل میڈیا پر بے چینی پائی جاتی ہے کہ مریض ٹھیک تھا لیکن انجکشن لگا کر مارا گیا۔ اس بات میں کتنی صداقت ہے؟

جواب: یہ صرف اور صرف افواہیں ہیں اور ایسی افواہیں جو عوام میں خوف و ہراس پھیلائیں ان کے تدارک کے لیے متعلقہ اداروں کو نوٹس لینا چاہیے۔ کوئی ڈاکٹر ایسا سوچ بھی نہیں سکتا کہ کسی کی جان لے۔


ویڈیوز کے لیے ہمارا یوٹیوب چینل سبسکرائب کریں۔

Arshad

http://sahiwalnewslive.com/

Arshad Farooq Butt is a web developer, youtuber and admin of this site. Contact: admin@sahiwalnewslive.com

Related post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *