History of Ertugrul Ghazi | Dirilis Ertugrul in Urdu & Hindi – SahiwalNewsLive

History of Ertugrul Ghazi | Dirilis Ertugrul in Urdu & Hindi
This Drama Ertugrul Ghazi is about the complete life of Ertugrul Gazi (Ertugrul Ghazi) who was the father of Osman ghazi (founder of of Ottoman Empire (Saltanat e Usmania)) in Urdu / Hindi.
Ertugrul Gazi (Dirilis Ertugrul) was a great warrior and son of islam. While his historicity is proven by coins minted by Osman I which identify Ertugrul as the name of his father, nothing else is known for certain about his life or activities. He was the son of Suleiman Shah, leader of the Kayi tribe of Oghuz Turks, who fled from eastern Iran to Anatolia to escape the Mongol Conquests. According to this legend, after the death of his father, Ertugrul and his followers entered the service of the Seljuks of Rum, for which he was rewarded with dominion over the town of Sögüt on the frontier with the Byzantine Empire.

This set off the chain of events that would ultimately lead to the founding of the Ottoman Empire. Like his son, Osman, and their future descendants, Ertugrul is often referred to as a Ghazi.Ertugrul had two other sons, Saru Batu Savci Bey and Gündüz Bey.

Now Turks are promoting him through this drama which has become the world best drama. It has been translated in many languages and liked by wast audience in USA, UK, UAE, KSA, Africa, Pakistan and India. We are covering the story of every episode of Ertugrul Ghazi drama season 1 and 2. Keep watching and subscribe for latest updates. #ErtugrulGhazi #Ertugrul #SahiwalNews
Read in Urdu
السلام علیکم ناظرین، ساہیوال نیوز یوٹیوب چینل میں آپ سب کو خوش آمدید۔ آج ہم بات کریں گے ڈرامہ سیریل ارطرل کے بارے میں جس نے دنیا بھر میں ویوز کے ریکارڈ توڑ دیے ہیں اور اب اس کا اردو ورژن پی ٹی وی پر پیش کیا جارہا ہے۔ ہم اس چینل پر اس کا ریویو ڈیلی اپ ڈیٹ کریں گے۔ اس لیے اگر آپ نے ابھی تک ہمارا چینل سبسکرائب نہیں کیا تو کرلیں کیونکہ ہم جو ویڈیوز بنائیں گے وہ ذرا ہٹ کے ہوں گی۔
ناظرین یہ وہ ڈراما ہے جس نے نہ صرف ترکی کے زرمبادلہ میں بے پناہ اضافہ کیا بلکہ اس ڈرامے نےمسلم نوجوانوں میں عظمت گم گشتہ کو تلاشنے کا جذبہ بھی بیدار کیا ہے۔ یہ تیرھویں صدی کے ایک مسلم حکمران کی کہانی ہے جس نے عظیم سلطنت کی بنیاد رکھی۔
لیکن مغربی دنیا اس ڈرامے کے خلاف ہے۔ ان کے خیال میں یہ ڈراما مسلم نوجوان میں شدت پسندی کو فروغ دے گا۔ تو بھائی جو آپ نے کیا ہے عراق اور افغانستان میں وہ کیا تھا؟ ۔ مغرب کو مسئلہ اس بات سے ہے کہ ان کا برسوں سے بنایا گیا بیانیہ اس ڈرامے نے ہفتوں میں تحلیل کر دیا ہے۔
خیر سب کو اس ڈرامے سے کچھ نہ کچھ پرابلم ضرور ہے۔ بھارت کو ہی دیکھ لیں۔اسے فکر ہے کہ کشمیری مسلمان ارطرل کے نقش قدم پر نہ چل پڑیں۔ ان کو میں کہنا چاہوں گی کی بھئی یہ تو ہوگا۔
بھارت اور صلیبیوں کی اس ڈرامے سے تکلیف کی تو سمجھ بھی آتی ہے لیکن مسلم ممالک کا رویہ بھی اس ڈرامے کے بارے میں بڑا عجیب ہے اور یہی بات ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ یہ صرف ڈراما ہی نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر کچھ اور بھی ہے ورنہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب اس کی نشر و اشاعت پر نہ تو پابندی لگاتے، نہ ہی وہ چالیس ( 40 ) ملین ڈالر کی لاگت سے خلافت عثمانیہ کے خلاف ڈراما بناتے۔ اگر غازی ارطرل محض ڈراما ہی ہوتا تو مصر کی حکومت اپنی سرکاری فتوی کمیٹی سے اس ڈرامے پر پابندی کا فتوی کیوں جاری کراتی۔ لیکن جو مرضی کر لو، یہ تو ہوگا۔
یہ وہ ڈراما ہے جس نے مسلمانوں کو ان کے حقیقی ہیروز سے متعارف کرایا ہے۔ یہ وہ ڈراما ہے جس کے بارے میں رجب طیب اردگان نے کہا جب تک شیر اپنی تاریخ خود نہیں لکھیں گے ان کے شکاری ہی ہیرو ٹھہریں گے اور ہم اسلامی تاریخ اس طرح لکھیں گے جس طرح وہ تھی۔
کچھ عالمی طاقتیں 2023 میں معاہدہ لوزان کے ختم ہونے سے خوفزدہ ہیں اور وہ اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ کہیں غازی ارطرل طیب اردگان کی شکل میں دوبارہ اسلامی دنیا کا پرچم نہ لہرا دے۔
اور آخر میں فقط اتنی گزارش ہے کہ اس ڈرامے کو خود بھی دیکھیں، فیملی کو بھی دکھائیں، دوستوں بھی بتائیں۔ ہماری ویڈیو کیسی لگی کمنٹس میں ضرور بتائیں۔ ملتے ہیں نیکسٹ ویڈیو میں تب تک اللہ حافظ۔

Arshad

http://sahiwalnewslive.com/

Arshad Farooq Butt is a web developer, youtuber and admin of this site. Contact: admin@sahiwalnewslive.com

Related post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *