283

ساہیوال : ڈاکٹر ساجد مصطفٰے کو سوا کروڑ تاوان کی ادائیگی کے بعد رہائی ملنے کا انکشاف

ساہیوال(ساہیوال نیوز لائیو- 11 فروری 2021 – غلام فرید سے) ساہیوال میڈیکل کالج کے پروفیسر ڈاکٹر و معروف چائلڈ سپیشلسٹ ڈاکٹر ساجد مصطفٰے کو تاوان کی ادائیگی کے بعد رہائی ملنے کا انکشاف ، پولیس ملزمان کا سراغ لگانے میں ناکام۔

تفصیل کے مطابق معروف چائلڈ سپیشلسٹ پروفیسر ڈاکٹر ساجد مصطفٰے کو 25 جنوری کی شام ان کے کلینک کے قریب سے تین مسلح افراد نے اغواء کر لیا تھا اغوا کے بعد ملزمان نے ڈاکٹر ساجد مصطفٰے کی رہائی کے لئے ڈیڑھ کروڑ روپے تاوان کا مطالبہ کیا تھا۔

پولیس نے ملزمان کے خلاف اغواء کا مقدمہ درج کیا مگر پولیس ملزمان کا سراغ لگانے اور انہیں گرفتار کرنے میں ناکام رہی۔

اغوا کے دوران ملزمان اہل خانہ کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے رہے اور رہائی کے لئے ڈیڑھ کروڑ روپے تاوان کی رقم کا مطالبہ کرتے رہے، پولیس اغوا کے بعد پانچ روز تک ملزمان کا سراغ نہ لگا سکی جس پر اہل خانہ اغوا کاروں سے مذاکرات کرنے پر مجبور ہوئے۔

مذاکرات کے بعد ملزمان نے ایک کروڑ 27 لاکھ روپے کے عوض رہائی پر آمادگی ظاہر کی جس کا اہل خانہ نے بمشکل انتظام کیا اور یہ رقم ملزمان کے حوالے کی گئی تاوان کی رقم وصول کرکے ملزمان نےڈاکٹر ساجد مصطفےٰ کو رہا کیا انہیں اغوا کے دس روز بعد رہائی ملی۔

یہ اغوا براۓ تاوان کی دورسری بڑی واردات ہے اس سے قبل 2019 میں چھٹی جماعت کے طالبعلم احسان اللہ کو بھی سکول جاتے ہوے عارف روڈ سے ملزمان نے اغواء کر کرلیا تھا بچے کے ورثاء نےبھی تاوان دے کر اغواکاروں سے بچہ حاصل کیا تھا۔

پولیس دونوں واقعات میں اغوا کاروں کا سراغ لگانے میں ناکام رہی ہے بڑی ورداتوں کے ملزمان کا گرفتار نہ ہونا پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔

شہری وسماجی حلقوں، پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن اور ینگ ڈاکٹرز نے وزیر اعظم وزیراعلی پنجاب اور آئی جی پنجاب سے مطالبہ کیاہے کہ ڈاکٹر ساجد مصطفٰے اور بچے احسان الللہ کےاغوا کرنے والے ملزمان کو گرفتار کرکے نشان عبرت بنایا جائے اور تاوان کی رقم برآمد کی جائے۔

اگر پولیس نے ملزمان کو گرفتار نہ کیا تو صوبہ بھر میں احتجاج کیا جائے گا ۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں