153

“ب فارم” کی تلاش میں سرگرداں اساتذہ کے چند دلچسپ واقعات

ارشد فاروق بٹ
محکمہ تعلیم طلبا و اساتذہ کا ریکارڈ جلد از جلد آن لائن کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اساتذہ کو پے در پے ٹاسک دیے جاتے ہیں اور آجکل ہر طرف ب فارم کا ڈھول پیٹا جا رہا ہے۔
نومبر 2020 سے شروع ہونے والا ب فارم اندراج کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔
راقم نے ایک طالب علم سے ب فارم کی بابت دریافت کیا تو انکشاف ہوا کہ اس کے والد کا شناختی کارڈ بھی نہیں بنا۔ بچے کے والد سے بالمشافہ ملاقات سے انکشاف ہوا کہ بچے کے دادا دادی کے شناختی کارڈ بھی نہیں تھے اور انہیں باغ عدم سدھارے مدت ہو چلی ۔بچے کے والد نے مزید کہا کہ یونین کونسل میں بھی اس کی پیدائش کا اندراج نہیں ہے۔
ایک اور استاد مہینہ بھر ایک طالب علم کے والد سے رابطے میں رہے۔ آخر کار ب فارم بن گیا اور بچے کے والد نے اگلے روز سکول آنے کا وعدہ کیا۔ تاہم اسی رات ایک چور قیمتی سامان کے ساتھ ساتھ ب فارم بھی لے گیا۔
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہے جس میں اساتذہ کرام ڈھولچی کو ساتھ لیے گھر گھر والدین کو ب فارم بنوانے کی ترغیب دے رہے ہیں۔
ایسا نہیں ہے کہ اساتذہ کو ب فارم سکولوں میں بیٹھے بٹھائے پہنچ گئے۔ کئی اساتذہ کو اس کے لیے سخت اذیت سے گزرنا پڑا۔ کچھ دن قبل ایک بزرگ استاد کی تصویر سامنے آئی جسے دوران “ب فارم ڈیوٹی” گاوں میں ایک کتے نے کاٹ لیا۔ راقم محترم استاد صاحب کی صحت کے لیے دعا گو ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں