ہفتہ , 31 اکتوبر 2020
Home / خبریں / ڈپٹی کمشنر کی زیر صدارت ضلعی امن کمیٹی کا اجلاس

ڈپٹی کمشنر کی زیر صدارت ضلعی امن کمیٹی کا اجلاس

ساہیوال (ساہیوال نیوز لائیو – 6 اکتوبر 2020 – عقیل اشفاق) ڈپٹی کمشنر بابر بشیر نے کہا ہے کہ حضرت امام حسین کی شہادت ملوکیت اور جبر کے خلاف عظیم قربانی تھی جو اس بات کی غماز ھے کہ اسلام کے زریں اصولوں کی حفاظت کے لئے سب سے قیمتی چیز کی قربانی میں بھی کوئی عذر نہیں ہونا چاہیے۔

اہل بیت کی محبت ہر مسلمان کے ایمان کا لازمی حصہ ھے جس کے بغیر کوئی شخص مسلمان نہیں کہلا سکتا- انہوں نے یہ بات اپنے دفتر میں ضلعی امن کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

جس میں ڈی پی او امیر تیمور بزدار، اے ڈی سی فنانس فاروق صادق، ملک محمد فیصل لنگڑیال سمیت ضلع بھر سے تمام مکاتب فکر کے علماء کرام مولانا غلام نبی معصومی، قاری بشیر احمد،مولانا محمد حسن معصومی، سید محمد حذیفہ، مولانا محمد شفیع قاسمی،سید کاشف حسین، مولانا عابد ڈوگر،مہدی حیدر، مفتی محمد ساجد، آغا محمد رضا، سید رضا عباس، آغا عزادار حسین، قاری عبدالباسط اور انجمن تاجران کے نمائندے شیخ اعجاز احمد رضا نے بھی شرکت کی –

ڈپٹی کمشنر بابر بشیر نے عاشورہ محرم پر کورونا وائرس سے متعلق ضابطہ اخلاق پر عملدر آمد کرنے، فرقہ وارانہ فضا کو خوشگوار رکھنے اور انتظامیہ سے بھر پور تعاون پر علما کرام کا شکریہ ادا کیا اور توقع ظاہر کی کہ چہلم امام حسین کے موقع پر بھی اسی جذبے کا اظہار کیا جائے گا اور باہمی محبت اور تعاون سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی مثالی فضا قائم رکھی جائے گی –

انہو ں نے مجالس اور ذوالجناح کے جلوسوں میں ضابطہ اخلاق پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت کی اور یقین دلایا کہ انتظامیہ مقامی سطح پر در پیش تمام مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرے گی –

اجلاس میں علماء کرام نے اپنے خطاب میں شہادت حسین پر روشنی ڈالی اور اسے تمام بنی نوع انسان کے لئے مشعل راہ قرار دیا –

انہو ں نے یقین دلایا کہ علماء کرام فرقہ وارانہ فضا کو برقرار رکھنے اور پر امن محرم کے لئے بھر پور تعاون جاری رکھیں گے۔

شیخ اعجاز احمد رضا نے ڈپٹی کمشنر کی توجہ سوشل میڈیا پر فرقہ وارانہ مواد کی موجودگی کی طرف دلائی اور درخواست کی کہ ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے جو ملک دشمن عناصر کی شہ پر ملک کی پر امن فضا کو خراب کرنے کی مذموم کوشش کر رہے ہیں۔

ڈی پی او امیر تیمور بزدار نے علمائے کرام پر زور دیا کہ وہ اپنی تقاریر میں عوام کو محبت اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا پیغام دیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے