جمعہ , 18 ستمبر 2020
Home / کالم شالم / چیچہ وطنی کی مشہور میر فیملی، تعارف اور خدمات

چیچہ وطنی کی مشہور میر فیملی، تعارف اور خدمات

مشاہیر چیچاوطنی پہ عملی کام کاآغازکردیا گیا ہے۔ چار رکنی ادارتی بورڈ میں محمد اکمل پاشا ،سلمان بشیر، ارشد فاروق بٹ اور محمد عابد مسعود ڈوگر مشترکہ طور پہ اس پر کام کر رہے ہیں۔ اس سلسلے کی پہلی تحریر حاضر خدمت ہے جس میں چیچہ وطنی کی مشہور سیاسی و سماجی میر فیملی کا تعارف اور خدمات کا تذکرہ ہے۔

٭سید میر نذیر احمد٭
سید میر نذیر احمدعہدہ کےلحاظ سے تحصیل دار تھے اور 1918 میں چیچہ وطنی آئے۔ قیام پاکستان کے بعد انہوں نے چیچہ وطنی کی آبادکاری میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے 34 بارہ ایل چیچہ وطنی میں 25 مربعوں اور 109 بارہ ایل میں 32 مربعوں پر آبادکاری کے ساتھ ساتھ صادق آباد اور رحیم یار خاں میں بھی سیکڑوں ایکڑ زمین آباد کرائی۔ انہوں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ کسی غیر مسلم کو مسلم شہری آبادی کے قریب آبادکاری میں زمین الاٹ نہیں کی جائے گی۔
آباد کاری کے دوران انہیں حکومت کی طرف سے مہمانوں کے اخراجات چلانے کے لیے 25 مربع زمین دی گئی ۔ آباد کاری کے بعد اس وقت کے ڈپٹی کمشنر ساہیوال نے میر نذیر احمد کو 109 بارہ ایل میں 25 مربعے انعام کے طورپر دینے کی پیشکش کی جسے انہوں نے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد میر نذیر احمد شعبہ زراعت سے منسلک ہو گئے۔ان کا روحانی تعلق خانقاہ سراجیہ (کندیاں شریف) کے بانی حضرت مولانا ابوالسعد احمد خاں رحمتہ اللہ علیہ سے تھا۔

٭سید میر ریاض الدین٭
سید میر ریاض الدین 1913 میں کامونکی پاکستان میں پیدا ہوئے۔ ان کا آبائی علاقہ میرٹھ کوٹلہ بھارت تھا۔انہوں نے چیچہ وطنی کی مقامی سیاست میں 1960 کی دہائی میں حصہ لیا۔ انہوں نے پہلا الیکشن 1964 میں لڑا اور اس وقت کے مضبوط امیدوارچوہدری محمد حسین صراف کو ہرا کربلدیاتی ممبر منتخب ہوئے۔ میر ریاض الدین دو بار چک 34 بارہ ایل چیچہ وطنی کی یونین کونسل کے چیئرمین بھی رہے۔
بعد ازاں انہوں نے ملکی سیاست میں حصہ لیتے ہوئے جے یو آئی کے پلیٹ فارم سے مولانا مفتی محمود اور مولانا غلام غوث ہزاروی کے اصرار پرقومی اسمبلی کا الیکشن لڑا۔ سید میر ریاض الدین تاحیات جے یو آئی کے ساتھ منسلک رہے۔
ان کے قریبی دوستوں میں مولانا مفتی محمود، مولانا عبدالعزیز رائے پوری (پیر جی درس والے) اور نفیس شاہ بھی شامل تھے۔ اور وہ خانقاہ سراجیہ سے بیعت تھے۔
ان کا انتقال جون 1987 میں ہوا۔ ان کے پسماندگان میں5 بیٹے اور ایک بیٹی تھی۔ بیٹوں میں سید غیاث الدین مرحوم، سید میر رضاالدین مرحوم، سید میر امین الدین اور سید مغیث الدین شامل ہیں۔

٭سید میر رضاالدین احمد (بھیا جی) ٭
سید میر رضاالدین احمد چیچہ وطنی کی ایک معروف سیاسی ، سماجی شخصیت تھے۔ آپ جولائی 1946 کو چیچہ وطنی میں پیدا ہوئے۔ 1962 میں گورنمنٹ ایم سی ماڈل ہائی سکول چیچہ وطنی سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ انٹر میڈیٹ اور بی اے گورنمنٹ کالج ساہیوال سے اور ایل ایل بی کا امتحان لا کالج لاہور سے 1969 میں پاس کیا۔مقامی سیاست کے ساتھ ساتھ بار چیچہ وطنی کی سیاست میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
1983، 2001، 2005 اور 2009 میں بلدیاتی الیکشن میں حصہ لیا۔ دو بار یونین کونسل کے چیئرمین بھی منتخب ہوئے۔ 2001 میں رائے گروپ میں شمولیت اختیار کی اور تاحیات اسی سے منسلک رہے۔
انہوں نے وکالت کو بطور پیشہ نہیں اپنایا اور کاروباری طور پر زراعت سے منسلک رہے۔خاندان اور اہل علاقہ میں (بھیا جی) کے نام سے اپنی ایک منفرد شناخت رکھتے تھے۔
ان کے قریبی دوستوں میں حافظ عبدالرشید، صوفی نصیر احمد چیمہ، شیخ محمد افضل، مخزن دیال، ڈاکٹر حافظ محمد عطاالحق، شیخ عبدالغنی، شیخ احمد سعید ایڈووکیٹ، قاری شبیر احمد، نذر چیمہ، ملک اقبال لنگڑیال اور رانا ریاض احمد شامل تھے۔ ان کے پسماندگان میں تین بیٹے سید کاشف، سید ثاقب، سید وقاص اور ایک بیٹی شامل ہیں۔
سید میر رضاالدین جنوری 2020 میں مارکیٹ کمیٹی چیچہ وطنی کے چیئرمین نامزد ہوئے۔ مئی 2020 میں وہ شدید بیمار ہو گئے ایک ماہ قومے کی حالت میں رہنے کے بعد18 جولائی 2020 کو اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ ان کی نماز جنازہ ان کے بڑےصاحبزادے میر کاشف رضا نے پڑھائی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے