4

کامسیٹس ساہیوال میں سولر پلانٹ مفاہمتی یادداشت کے معاہدے پر دستخط

ساہیوال (ساہیوال نیوز لائیو – 23 اکتوبر 2020 – عقیل اشفاق) کامسیٹس یونیورسٹی ساہیوال کیمپس مکمل طور پر سولر توانائی پر منتقل ہونے والا ڈویژن کا پہلا تعلیمی ادارہ بننے جا رہا ہے۔

ماحول دوست توانائی کے ذریعوں سے فائدہ اٹھا کر گرین پاکستان ویژن پایہ تکمیل تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ ماحول دوست اور کم خرچ ذریعہ توانائی کا حصول اب کم و بیش دنیا کے ہر ملک کی ضرورت بن چکا ہے۔

یہ بات ریکٹر کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد پروفیسر ڈاکٹر محمد تبسم افضل نے ساہیوال کیمپس میں سولر پلانٹ نصب کرنے کے حوالے سے مفاہمتی یادداشت کے معاہدے پر دستخط کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر ڈائریکٹر کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد، ساہیوال کیمپس پروفیسر ڈاکٹر سلیم فاروق شوکت اور دیگر بھی موجود تھے۔

اس موقع پر ریکٹر کامسیٹس نے کہا کہ متبادل انرجی کے لئے سولرائزیشن کلچر کو فروغ دینے کے سلسلے میں ہمہ جہت اقدامات کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیمی اداروں کو سولر انرجی پر منتقل کرنے سے ہونے والی بچت تعلیمی سرگرمیوں پر خرچ ہوگی۔ ڈائریکٹر ساہیوال کیمپس پروفیسر ڈاکٹر سلیم فاروق شوکت نے بتایا کہ ساہیوال کیمپس میں 300 کلو واٹ کا سولر پاور پلانٹ نصب کیا جائے گا جس کے بعد سی یو آئی، ساہیوال کیمپس ڈویژن کا پہلا تعلیمی ادارہ بن جائے گا جو متبادل توانائی پر مکمل طور پر منتقل ہو جائے گااوراس پراجیکٹ پر قریباً 97 ملین کی لاگت آئے گی۔

یہ معاہدہ ڈی سی ایچ سولرجیگا پرائیوٹ لمیٹڈ کے ساتھ طے پایا ہے جس کے تحت مذکورہ کمپنی سی یو آئی، ساہیوال کیمپس کو سولر انرجی پلانٹ 6 ماہ میں نصب کر کے دے گئی جبکہ پلانٹ کے آپریشن اور دیکھ بھال تمام تر ذمہ داری 20 سال کے لیے کمپنی کے سپرد ہو گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں