159

سانحہ ساہیوال کو دو برس بیت گئے، قاتل تمام مراعات کے ساتھ نوکریوں پر بحال

ساہیوال (ساہیوال نیوز لائیو – 19 جنوری 2021 – حسنین) سانحہ ساہیوال کو دو برس بیت گئے، قاتل تمام مراعات کے ساتھ نوکریوں پر بحال ۔ انصاف کے دعوے ریت کی دیوار ثابت ہوئے۔

سانحہ ساہیوال ایک شادی شدہ جوڑے، ان کی نو عمر بیٹی اور ان کے ڈرائیور کے قتل سے متعلق ہے جو مبینہ طور پر پولیس مقابلے میں مارے گئے۔

19 جنوری 2019ء کو پنجاب پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی نے پاکستان کے شہر ساہیوال کے قریب ایک شاہراہ پر اس پولیس مقابلے کو انجام دیا۔

جاں بحق ہونے والوں کو اشیائے خور و نوش کی ایک دکان کے مالک محمّد خلیل، ان کی زوجہ نبیلہ، ان کی 13 سالہ بیٹی اریبہ اور ان کے دوست ذیشان جاوید کے طور پر شناخت کیا گیا۔

ان کا بیٹا عمیر خلیل گولیاں لگنے سے زخمی ہوا، جبکہ کار کا شیشہ ٹوٹنے کے باعث اس کی بہن منیبہ کا ہاتھ زخمی ہوا اور ان کی بیٹی حدیبہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

ابتدائی پریس ریلیز کے مطابق، محکمۂ انسدادِ دہشت گردی نے دعویٰ کیا کہ انٹیلی جنس رپورٹ کی بنیاد پر ایک انسدادِ دہشت گردی آپریشن کیا گیا ہےاور اس چھاپے میں چار افراد کو ان کے اپنے سہولت کاروں نے ہی قتل کیا جبکہ تین دہشت گرد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

تاہم عینی شاہدین کی رپورٹیں اور سانحے میں زندہ بچ جانے والوں کے بیانات نے محکمہ انسداد دہشت گردی کے موقف کی نفی کی۔ اور پولیس کا دوسرا رخ دیکھنے کو ملا۔

وزیراعظم عمران خان کے وعدوں کے باوجود متاثرین کو تاحال انصاف نہیں ملا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں