ہفتہ , 31 اکتوبر 2020
Home / کالم شالم / یادگار شہداء ختم نبوت چیچاوطنی – اکرام الحق سرشار

یادگار شہداء ختم نبوت چیچاوطنی – اکرام الحق سرشار

تحریر : اکرام الحق سرشار
12 اکتوبر 1984 کو اس کا سنگ بنیاد چیرمین بلدیہ چیچاوطنی رائے علی نواز خاں نے رکھا۔ ختم نبوت چوک میں بڑا تاریخ ساز جلسہ ہوا۔
مجلس شوریٰ پاکستان کے چیرمین خواجہ محمد صفدر تشریف لائے ، نقابت کے فرائض راقم اکرام الحق سرشار نے انجام دئیے۔
پاکستان بھر میں سب سے پہلے رائے علی نواز خاں شہید نے یہ فریضہ انجام دیا، نیشنل پیپرز نے نمایاں خبریں شائع کیں۔
پاکستان بھر سے اکثر بلدیہ کے چئیر مینوں نے مبارک باد کے پیغامات بھیجے ، قومی اسمبلی کے ممبران نے بھی خوشی کا اظہار کیا۔
چیچاوطنی میں بھی ختم نبوت کے جیالوں نے جشن منایا۔ جوں ہی رائے علی نواز خاں نے اس پروگرام کا اعلان کیا بڑے میرزائی نواز گھروں میں صف ماتم بچھ گئی۔
لیکن رائے علی نواز رح اس کار خیر سے پیچھے نہ ہٹے
رائے علی نواز خاں رح 1953 میں دنیا میں تشریف لائے تھے، شاید ان حالات کا ہی اثر تھا کوئی چودھراہٹ بھی رائے صاحب کو اپنے مقاصد سے نہ ہٹا سکی۔
رائے علی نواز خاں رح ختم نبوت کے عشاق میں شامل تھے
چیچاوطنی جو شروع سے ہی تحریک ختم نبوت کا مرکز رہا ہے ، چیچاوطنی کے جانباز ہمیشہ ہی اس مسئلے پر سب سے آگے رہے۔

احرار کے رضاکار اس مسئلے پر ہمیشہ اپنی جانیں ہتھیلی پر لئے پھرتے رہے
پیر جی ابن امیر شریعت سید عطاالمہیمن بخاری نے کافی عرصہ چیچاوطنی گزارا
اس وجہ سے بھی لوگوں کے جزبات دیدنی تھے
جب 1971 میں حضرت پیر جی پابند سلاسل کئے گئے اس وقت بھی شاہ جی نے بڑی بہادری سے اس مسئلے کو اجاگر کیا
1953 کی تحریک میں بھی احرار رضاکار جیلوں میں گئے
بڑے علماء اور بہادر ساتھی جیلوں میں گئے
شیخ اللہ رکھا رح
شیخ محمد صادق رح
رانا عبدالعزیز رح
حافظ عبد الرشید چیمہ رح
غلام رسول راہی رح

شیخ عبد الحق رح

مولانا غلام محمد رح
حاجی حبیب الرحمان رح
اور بیسیوں رضاکاروں کو پس دیوار زنداں بھیج دیا گیا
تحریک کا جزبہ کم کرنے کے لئے کارکنوں کو چھوڑ دیا جاتا تھا
1971 میں جب تحریک شروع ہوئی تو بڑے مقدمے بنائے گئے
1974 کی تحریک میں علماء کرام نے بڑی جدوجہد کی
عوام کے دلوں میں لاوا پکتا رہا اور ان تحاریک کی وجہ سے ہی رائے علی نواز خاں رح کا ذہن ختم نبوت کے مسئلے پر پختہ تر ہو گیا اور جوں ہی انہوں نے چئیر مینی کا حلف اٹھایا
ختم نبوت کے مسئلے کو اولیت دی
ان کا یہ کارنامہ ہمیشہ زندہءجاوید رہے گا
عبد اللطیف چیمہ کی کوششیں بھی رنگ لائیں
انہوں نے ہر جگہ اس کارنامے کو اجاگر کیا
اللہ کا شکر ہے اب بہت سے شہروں میں شہداءختم نبوت کی یادگاریں قائم ہو گئی ہیں
کریم رب شہداءختم نبوت کے طفیل ہماری کاوشیں بھی قبول فرمائیں
بقیہ پھر ان شاءاللہ
حضرت مولانا غلام محمد رح

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے