منگل , 27 اکتوبر 2020
Home / کالم شالم / ناسٹلجیا وارڈ (مصنف : محمد اسلم تاج)

ناسٹلجیا وارڈ (مصنف : محمد اسلم تاج)

وہ شفا خانہ امراض تھا کہ جگہ کوئی اور تھی
لوگ بیٹھے تھے باتیں کیے جا رہے
حضرت معمر تھے پہنچے وہاں
مریضوں کی واں بہتات تھی
ایسی بہتات کہ گننے میں گنتی بھی قاصر ہوئی
مرض ان کا تھا ایسا کہ درد بدن کا نشاں تک نہ تھا
پر تکلیف ایسی کہ چین و سکوں کا گماں تک نہ تھا
وہاں ڈاکٹرز کی سہولت میسر نہ تھی
کہ مرض تھا ہی ایسا —
تحقیق و تفتیش اور علاج و درماں ہاتھ باندھے کھڑے تھے
حضرت معمر پریشاں ، کہاں آ گیا ہوں؟ کہاں آ گیا ہوں؟
یاد آ گیا، آتا نہ تھا، لایا گیا ہوں
لانے والوں نے کہا تھا، ترا مرض، ناسٹلجیا، ناسٹلجیا
تو ہے مردم گزیدہ، ماضی پرست اور ماضی زدہ
تجھے اپنا ماضی حال سے زیادہ عزیز
اور مستقبل تو نظر آنا ہی بند ہو گیا
کر لے یہ باور کہ بوڑھا، اب تو تو ہو گیا
اب جا کے بیٹھ اپنے جیسوں کے بیچ
حضرت معمر تھے پہنچے وہاں
وارڈ کا نام تھا، ناسٹلجیا
حضرت معمر جو آگے بڑھے
قطار اندر قطار تھے جھمگٹے
وہ سب تھے مردم گزیدہ، ماضی پرست اور ماضی زدہ
کھلے ہوئے تھے بیتے زمانوں کے دفتر وہاں
کچھ روح کی خراشوں کو گنتے ہوئے
کچھ نوحے ارمانوں کی لاشوں پہ پڑھتے ہوئے
بازیافت برے اچھے لمحوں کی کرتے ہوئے
کریدتے ہوئے اپنی بیتی ہوئی زندگی
موازنہ حال کے ساتھ ماضی کا کرتے ہوئے
قدم سے قدم ملا کر قدم رت جگے گزرے زمانے کے چنتے ہوئے
گویا سب ہی گردش ایام کو دیکھنے، برتنے، اور یاد کرنے میں مصروف تھے
حضرت معمر کے لبوں میں بھی پیدا لرزش ہوئی
بولے
ارے لوگو! کچھ میری سنو، کچھ اپنی سناؤ
کہ میں بھی ہوں مردم گزیدہ، ماضی پرست اور ماضی زدہ
عصری شعور پکارتا ہے مجھے
پر میں رفتگاں کی رفعتوں کے درمیاں ڈوبا ہوا ہوں
جانتا ہوں کہ کچھ ہاتھ آنا نہیں
پرکیا کروں یہ زمانہ میرا زمانہ نہیں
گردش ایام کو لوٹانے کی آرزو تھی اقبال کی
میری طرح شاید فکر فردا کے شیدا وہ بھی نہ تھے
مجھے بھی اپنا جامہ روز و شب گزیدہ
فیض کی مثل عزیز بھی ناپسند بھی ہے
اختر انصاری کی کرب بھری اس دعا کے لیے
اٹھتے ہیں مرے ہاتھ بھی
کہ یارب! چھین لے مجھ سے حافظہ میرا
مثل گلزار لگتی ہے سوندھی سوندھی ماضی کی رسوائی مجھے
لیکن میرے بس میں کچھ بھی نہیں
بس میں کچھ بھی نہ ہونے کے کرب کا اندازہ، تخمینہ ممکن ہے کیا؟
میں تو سمجھا تھا کہ ایسا اکیلا ہوں میں
یہاں تو میری طرح ہیں سینکڑوں
اس کے بعد حضرت معمر کے تو لب گویا سل ہی گئے
خاموشی، خاموشی، مسلسل سکوت
توڑا پھر اسے اک صدائے درویش مدہوش نے
بولا ——–
وہ بچپن کی یادیں وہ کھیلیں سرور
لوٹا دو مجھے، اب نہیں چاہیے کوئی حور

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے