یونیورسٹی آف ساہیوال میں انتظامی تبدیلیوں کا معاملہ

وائس چانسلر کے احکامات لاہور ہائی کورٹ سے قانونی قرار، بخش علی کی رٹ پیٹیشن ناقابل سماعت قرار دے کر خارج۔
ایڈیشنل رجسٹرارز و دیگر اپنے عہدوں پر بحال، یونیورسٹی اور وائس چانسلر کی طرف سے ملک اویس خالد اور راجہ نوید اعظم کے دلائل۔
لاہور ہائی کورٹ کے ملتان بنچ نے یونیورسٹی آف ساہیوال کی انتظامی تبدیلیوں کا دیرینہ معاملہ نمٹا دیا اور بخش علی کی دائر کردہ رٹ پیٹیشن ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کر دی، اور اسطرح وائس چانسلر کے ان احکامات کو قانونی جواز فراہم کر دیا جن کے تحت فیکلٹی ممبرز کو اضافی انتظامی ذمہ داریاں دی گئی تھیں۔
تفصیل کے مطابق یونیورسٹی آف ساہیوال کے وائس چانسلر نے مارچ کے اوائل میں یونیورسٹی کے انتظامی معاملات میں بہتری کے لیے فیکلٹی ممبرز کو اضافی انتظامی ذمہ داریاں دی تھیں جن کے تحت ڈاکٹر شافیہ افتخار کو ایڈیشنل رجسٹرار(HRM)، ڈاکٹر شہیرا امین کو ایڈیشنل رجسٹرار ایکڈیمکس، ڈاکٹر سائرہ عزیز کو ایڈیشنل رجسٹرار (IMP)، تنویر اختر، عائشہ اشرف اور ثمرہ ملک کو ڈپٹی رجسٹرارز کی اضافی ذمہ داریاں دی گئی تھیں جو ایک نامعلوم شہری بخش علی نے لاہور ہائی کورٹ کے ملتان بنچ میں ایک رٹ پیٹیشن کے ذریعے چیلنج کر دی تھیں۔
جسکی وجہ سے معزز عدالت نے ابتدائی طور پر سٹے آرڈر دے دیا تھا- مگر گزشتہ روز جناب جسٹس اقبال چوہدری پر مشتمل ایک رکنی بنچ نے سماعت کے بعد رٹ پٹیشن کو ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کر دیا اور وائس چانسلر کے احکامات کو یونیورسٹی ایکٹ کے مطابق قرار دیا ہے۔
وائس چانسلر اور دیگر کی طرف سے ملک اویس خالد اور راجہ نوید اعظم نے دلائل دئیے اور ڈاکٹر محمّد ایوب نے معزز چانسلر/گورنر پنجاب کی نمائندگی کی۔
ملک اویس خالد نے معزز عدالت کو بتایا کہ یونیورسٹی ایکٹ وائس چانسلر کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ یونیورسٹی کے کسی بھی ٹیچر یا افسر کو کوئی بھی اضافی ذمہ داری دے سکتے ہیں۔
معزز جسٹس نے انکی دلیل کو جائز قرار دے کر مخالف وکیل کے دلائل کو رد کر دیا اور رٹ اور سٹے آرڈر خارج کر دئیے۔
امید کی جا سکتی ہے کہ اس فیصلہ سے یونیورسٹی کے انتظامی معاملات میں بہتری آئیگی اور یہ فیصلہ طلبہ و طالبات کے لئے سود مند ثابت ہوگا۔

UAE URDU

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے