بدھ , 21 اکتوبر 2020
Home / کالم شالم / افسانہ : برگد (ارشد فاروق بٹ)

افسانہ : برگد (ارشد فاروق بٹ)

کچے گھروں کی منہدم دیواروں کے بیچوں بیچ احتیاط سے چلتے ہوئےمصنف اس جگہ پہنچا جہاں بوڑھا برگد بانہیں پھیلائے اس کا منتظر تھا۔ دونوں کچھ دیر ایک دوسرے کو دیکھتے رہے اور پھر وہ بوڑھے برگد سے لپٹ گیا۔ کچھ دیر دل کا بوجھ ہلکا کرنے کے بعدوہ برگد کی آغوش میں اپنی مخصوص نشست پر بیٹھ گیا جہاں کبھی وہ بیٹھ کر تختی لکھا کرتا تھا۔

اس بات کو کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا لیکن زندگی کا پرندہ اس تیز رفتاری سے محو پرواز تھاکہ وہاں کے مکینوں کے پاس پوری رفتار سے دوڑنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہ تھا۔ مصنف نے ویرانے پر ایک نظر دوڑائی۔ بورے والا کے نواح میں لنڈو مسجد کے قریب ستر کی دہائی میں ٹھیک اس جگہ جالندھر سے آئے ایک قبیلے نے پڑاؤ ڈالا۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہاں کچی اینٹوں سے بنائے کئی گھروں میں زندگی نے اپنا سفر شروع کیا۔ چاروں طرف بنائے گئے گھروں کے درمیان ایک چوپال تھی جس میں سائے کی غرض سے برگد کا پودا لگایا گیا۔ یوں اس برگد کا جنم اسی قبیلے کی آمد کے ساتھ ہوا۔ مصنف کے قلم نے کاغذ کی لکیروں پر رینگنا شروع کیا۔
سب سے پہلی یاد اس کا بچپن جو کسی ایسی جنت میں گزرے لمحات کی طرح تھا جہاں سے آدم اور حوا کو نکالا گیا تھا۔ کبھی راتوں کو جگنو پکڑ کر مٹھی میں چھپانا اور اس کی روشنی سے روح کو منور کرنا تو کبھی ساون بھادوں کی بارش میں کچی مٹی پر کھیل کھیل میں پھسلتے ہوئے اللہ میاں سے اور بارش مانگنا۔
کالیا ں اٹاں کالے روڑ
مینہ برسا دے زور و زور
قبیلے کے ہر بچے کی زبان پر ہوتا۔ اس کے بعدپیسے اکٹھے کرنے کے لیے حسب روایت ایک بچے کے مونہہ پر کالک مل دی جاتی اور گھر گھر جا کر صدا لگائی جاتی۔
ڈوئی ڈوئی دانیاں دی
ٹوڈے دا منہ کالا
کالا ٹوڈا مینہ منگدا
روپیے تی منگدا
لکن میٹی، چور سپاہی، اڈا کھڈا، گلی ڈنڈا، باندر کلا، کوکلا چھپاکی، یسو پنجو، چڑی اُڑی کاں اُڑا سمیت درجنوں کھیل قبیلے کے بچوں نے کھیلے۔ کچھ ہی فاصلے پر ایک سرکاری پرائمری سکول تھا جس کی یاترا قبیلے کا ہر بچہ کر چکا تھا۔قلم دوات، تختی، گاچی، سلیٹ سلیٹی، بستہ اور چھٹیوں کا کام اور وہ بھی برگد کے سائے میں بیٹھ کر۔ مصنف نے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر نظر دوڑائی۔ سکول اب بھی اپنی جگہ موجود تھا۔
قبیلے میں بجلی نہ تھی۔ کبھی کبھار بچوں کی پرجوش فرمائش پر بروز جمعرات کرائے پر ٹی وی لایا جاتا اور قریب کے ایک قبیلے سے بجلی کی تار بچھا کرفلم دیکھنے کا اہتمام کیا جاتا۔ محمد علی، ندیم، اورشبنم کی کوئی فلم ہوتی جو پی ٹی وی پر دکھائی جاتی۔ تاہم ایک بات جو بچوں میں مشترک تھی وہ فلم دیکھتے ہوئے ہیرو کی کامیابی کے لیے صدق دِل سے دُعا کرتے۔
مصنف کے بے لاگ تجزے کو پڑھ کر برگد بھی مسکرا دیا۔وہ بھی اس زمانے میں مصنف کا ہم عمر تھا۔ لیکن اسے قبیلے کے لیے چھاؤں مہیا کرنا تھی۔ اس نے جلد ہی اپنی شاخوں کو پھیلایا اور کچھ ہی عرصے میں کسی دیوتا کی مانندپر پھیلائے اور قبیلے پر سایہ فگن ہو گیا۔ قبیلے کےسردار کی چارپائی آخری ایام میں برگد کے سائے کے عین درمیان میں تھی۔ دہکتے انگاروں سے بھری چلم والا حقہ کھنگارتے سردار کے لیے ہر چیز سے زیادہ محبوب شے تھی جو محفل کا ماحول گرمائے رکھتی۔
زندگی اپنی پوری رفتار سے چلتی رہی اور پھر ایک دن قبیلے کا سردار چل بسا، اس کے غم میں یکے بعد دیگرے اس کے تمام بھائی سفر آخرت پر روانہ ہوگئے۔ یوں زندگی کا بوجھ ہر گھر کے سربراہ کے کندھوں پر آن پڑا۔ سب سے پہلے مصنف کے خاندان نے شہر کی طرف ہجرت کی۔ اس کے بعد قبیلے کے دیگر گھرانے بھی بہتر مستقبل کے لیے شہرکو پیارے ہو گئے۔
برگد چاہتا تھا کہ مصنف اس کے جذبات بھی قلمبند کرے۔ وہ اب اس اجڑے گلشن میں تن تنہازندگی کے عذاب کو جھیل رہا تھا۔وہ اپنی اونچی شاخوں سے سکول کو دیکھ سکتا تھا لیکن وہاں کوئی شناسا چہرہ اسے دکھائی نہ دیتا۔ اس ویرانے میں اب منہدم دیواروں اور چھتوں کے علاوہ کچھ موجود نہ تھا۔ کچھ فاصلے پر شہر خموشاں میں قبیلے کا سرداران سب باتوں سے بے نیاز گہری نیند سو رہا تھا۔
دور افق میں سورج غروب ہو رہا تھا جس کی سرخ کرنیں نہر کنارے بنائی ایک مسجد کے میناروں سے چھن چھن کر برگد تک پہنچ رہی تھیں۔مصنف نے قلم اور ڈائری کو بند کر کے جیب میں ڈالا، برگد کو بوسہ دیا اور بوجھل قدموں سے روانہ ہو گیا۔ پگڈنڈی کے آخری کنارے پر نظروں سے اوجھل ہونے سے پہلے اس نےاشک بار برگد پر الوداعی نظر ڈالی اور اداس منظر کو اپنے تخیل میں قید کر کے چلا گیا۔
یہ کوئی پہلا موقع نہیں تھا جب کوئی بھولا بھٹکا فرزند اس ویرانے کی یاترا کو آیا ہو لیکن آج برگد کی بے چینی انتہا ؤں کو چھو رہی تھی۔ کچھ ہی دیر میں رات کی دیوی نے اپنے پر پھیلادیے۔ جگنو اب بھی اس ویرانے میں ٹمٹما رہے تھے۔ آسمان پر ستارے اب بھی ویسے تھے جیسے چالیس سال پہلے ہوا کرتے تھے۔ شبنم نے ہر چیز کو آسمانی غسل دے کر مطہر کر دیا۔ برگد بوجھل دل کے ساتھ نیند کی آغوش میں چلا گیا۔
اگلی صبح جب برگد کی آنکھ کھلی تو کچھ لوگ فیتے سے ویرانے کی پیمائش کر رہے تھے۔ لٹکی توند والا ایک بھاری بھرکم شخص آیا اور مزدوروں سے کہا۔
"کالونی کی بہتر کٹنگ کے لیے ضروری ہے کہ اس بدصورت برگد کو کاٹ کر گرا دیا جائے۔”

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے