بدھ , 21 اکتوبر 2020
Home / کالم شالم / افسانہ : مراد

افسانہ : مراد

مصنف : ارشد فاروق بٹ
رات کا پچھلا پہر اور مراد اپنے موبائل فون پر آنکھیں گاڑے نئی محبت کی تلاش میں سرگرداں تھا۔ آج اسے کتنے ہی دن ہو چلے تھے جب کسی ہمسفر سے بات نہ ہو پائی۔ اس نے میسینجر کھول کے پیغامات کو اوپر کی جانب گھمایا لیکن چند ایک لڑکوں، فیک آئی ڈیز اور کچھ مفتیان شہر کے علاوہ سب آف لائن تھے۔ بے زاری سے وہ موبائل فون ایک جانب پٹخ دیتا ہے اور سہانے دنوں کے سپنے دیکھنے لگتا ہے۔
وہ اپنے باپ کے ساتھ ایک خستہ حال مکان میں رہتا تھا۔ ماں بچپن میں گزر گئی۔ باپ اپنی عمر کا آخری حصہ گزار رہا تھا۔ وہ سارا دن گھر کے باہر رکھی ایک چارپائی پہ پڑا رہتا۔ جس کے ایک کونے میں دو بکریاں بندھی ہوتیں۔ اس کی طرح دو گھر چھوڑ کے ایک بڑھیا بھی ایک گھر کے باہر اپنی زندگی کے ایام پورے کر رہی تھی۔ تاہم بڑھیا اپنا گھر نہ ہونے کے باعث رات بھی باہر ہی گزارتی۔

چشم تصور میں مراد اپنی پہلی محبت کو دیکھتا ہے۔ وہ ایک خوبصورت اور معصوم لڑکی تھی۔ پیلے رنگ کے لباس میں وہ سورج مکھی کی طرح پورے جوبن پہ تھی جسے وہ ہر قیمت پر حاصل کرنا چاہتا تھا۔ وہ کئی ماہ اس کے راستوں کی خاک چھانتا رہا۔ موسم کی سختیاں بھی اس کا راستہ نہ روک سکیں۔ سرشام وہ اپنے گھر کی چھت پہ آجاتی اور دونوں ہی چور نظروں سے ایک دوسرے کو تکتے رہتے۔
ایک روز شدید بارش ہورہی تھی۔ مراد حسب معمول اس کے گھر کے قریب چلا گیا۔ اس کا جسم بارش کے پانی سے بھیگ رہا تھا۔ لیکن کوئی بھی چیز اسے انتظار سے نہیں روک سکتی تھی۔ آخرکار انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں۔ وہ چھت پہ آئی، کچھ دیرمراد کو دیکھتی رہی اور کاغذ کا ایک ٹکڑا پھینک کر چلی گئی۔
مراد نے جھٹ سے محبت نامہ اٹھا لیا اور گھر چلا آیا۔ اس نے بھیگے ہوئے کپڑوں کی پروا کیے بغیرچٹھی کو پڑھنا شروع کیا۔
"مجھے معلوم ہے تم مجھ سے بہت محبت کرتے ہو لیکن ایسی محبت کا کیا کرنا جو پل دو پل کی ہو۔ پھر بھی اگر شوق کے ہاتھوں مجبور ہو تو آج رات مل لینا۔ یہ میرا اس شہر میں آخری دن ہے۔ میٹرک کے امتحانات ہو چکے ہیں اور مجھے کل اپنے گاوں واپس جانا ہے۔ فرام کنول”
مراد بت بنا خط کے مندرجات کو بار بار پڑھ رہا تھا۔ اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اس ملاقات پر جشن منائے یا سوگ۔ تاہم وہ دیے گئے وقت پر محبوبہ کے پاس جا پہنچا جس نے آہستہ سے دروازہ کھولا اور اس کو چھت پر لے گئی۔
کچھ رسمی باتوں کے بعد وہ مراد کے بازووں میں سمٹ آئی اور رونے لگی۔
میں نے اپنے آپ کو بہت روکا لیکن آج تمہیں بارش میں بھیگتے دیکھا تو سہہ نہیں پائی۔
میں بھی تم سے بہت محبت کرتا ہوں اور تمہارے جانے پر رنجیدہ ہوں، مراد نے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا جو بالآخر اس کی چٹیا سے کمر میں جا پہنچا۔
کنول بھی اب سولہ برس کی ہوچکی تھی۔ اسنے صرف عبایا پہن رکھا تھا۔ اگلے دو گھنٹے ان دونوں کو کچھ ہوش نہ رہا۔ رات کے آخری پہروہ اسے الوداعی بوسہ دے کر رخصت ہوا۔
اچانک ایک ٹیکسٹ میسیج نے اس کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔ وہ بے چینی سے میسینجر دیکھتا ہے لیکن اس بار بھی ایک فضول ویڈیو نے اسے ڈسٹرب کیا تھا۔
اس کا باپ باورچی خانے میں کچھ لینے آیا اور دوبارہ باہر چلا گیا۔ گلی میں پڑی بڑھیا کو آج کسی نے کھانا نہیں دیا تھا۔ وہ احتیاط سے ادھر ادھر دیکھتا بڑھیا کی طرف ہو لیا۔
ہاجراں، یہ کھا لے۔ مر جائے گی بھوک سے۔ بڑھیا اس سے چھابڑی لے کر ٹکر کھانے لگی۔ وہ خاموشی سے واپس اپنی چارپائی پہ آ گیا۔ وہ سوچنے لگا کتنا اچھا ہوتا اگر اس لاوارث عورت کی شادی مجھ سے کرا دی جاتی۔
ایسا نہیں تھا کہ اس نے اپنی خواہش کا اظہار نہیں کیا تھا۔ ایک روز اس نے اپنے بیٹے سے اس بابت بات بھی کی تھی۔ لیکن اس کا بیٹا آگ بگولہ ہو گیا تھا۔ اس کے مطابق ایسا کرنے سے خاندان میں ہماری ناک کٹ جائے گی۔
مراد موبائل فون پھر ایک طرف رکھ کر سوچوں میں گم ہو جاتا ہے۔ اس کی دوسری محبت بھی پہلی کی طرح جنونی تھی۔ وہ ایک نجی سکول میں استانی تھی۔
کنول کے جانے کے بعد اس کی دنیا ویران ہو گئی تھی۔ اب صرف ویران راستے تھے جہاں سے وہ گزرتا تو کلیجہ منہ کو آتا۔ انہی ویران راستوں پر ایک روز اس کا سامنا گل بانو سے ہوا۔ کچھ روز خاک چھاننے کے بعد وہ بالآخر اس سے موبائل فون نمبر لینے میں کامیاب ہو گیا۔ پھر باتیں شروع ہوئیں جو صرف دوستی تک محدود رہیں۔ اس نے کئی بار کوشش کی وہ اس سے مل سکے لیکن وہ سختی سے منع کر دیتی۔
گل بانو اس سے شادی کی خواہش مند تھی لیکن مراد کا کہنا تھا کہ برادری سے باہر شادی کرنا اس کے لیے ممکن نہیں۔ پھر ایک دن گل بانو نے بتایا کہ اس کی شادی طے کر دی گئی ہے۔ مراد کو یہ سن کر جھٹکا لگا۔ اگرچہ وہ اس سے شادی نہیں چاہتا تھا لیکن اس کے جانے پر اسے ایک عجیب بے چینی لگ گئی۔ گل بانو نے رخصتی کے دن بیوٹی پارلر میں بیٹھے اس سے آخری دفعہ فون پر بات کی۔ وہ بات کرتے ہوئے زاروقطار روتا رہا اور گل بانو بت بنے آنسو پیتی رہی۔
فون پر آئے ٹیکسٹ میسیج نے مراد کی توجہ اپنی جانب مبذول کی۔ نیٹ ورک کی جانب سے فری منٹس کا پیغام۔ ان سالوں کو اور کوئی کام نہیں، مراد نے پریشانی سے میسینجر اوپن کیا اور پیغامات کو سکرول کیا۔ یہ مفتی صاحب اس وقت آن لائن کیا کر رہے ہیں؟
گل بانو اس کو شادی کے بعد بھی فراموش نہ کر سکی، اس کی شادی دور کے کسی شہر میں ہوئی تھی۔ کچھ دنوں بعد ایک نئے نمبر سے مراد کو کال آئی۔ مراد ہیلو ہیلو کرتا رہا لیکن دوسری طرف خاموشی تھی۔ پھر کسی کے سسکنے کی آواز آئی۔ مراد ایک دم پہچان گیا اور یوں بات چیت کا سلسہ دوبارہ چل نکلا۔ گل بانو دن بھر اس کو اپنے سسرال کی باتیں سناتی۔ وہ خاموشی سے سنتا جاتا اور مشورے دیتا۔ پھر ایک دن گل بانو نے اس کو خوشخبری سنائی۔
"میں کل میکے آ رہی ہوں، ملنا چاہتے ہو؟”
ضرور ملوں گا اپنی محبت سے۔ مراد نے بے ساختہ کہا۔
میں دیکھنا چاہتی ہوں جس کو میں کھو کے آئی ہوں وہ بہتر تھا یا وہ جو مجھے ملا ہے۔
جو ملا ہے وہی بہتر ہے، میں تمہارے قابل نہیں تھا۔ صرف یہ جاننا چاہتی ہو تو میں ابھی بتائے دیتا ہوں۔
"میں پھر بھی ملنا چاہتی ہوں، اپنے سونو سے۔”
مل کے کیا کروگی؟
وہی سب کچھ جو میرا سونو چاہتا تھا۔
میں اپنی خواہشات دفن کر چکا ہوں۔ مراد نے رنجیدگی سے کہا۔
بارش ہوتی ہے تو بنجر زمین بھی کھل اٹھتی ہے، گل بانو نے گلوگیر لہجے میں کہا، میں تمہیں خوش کرنا چاہتی ہوں، خوش دیکھنا چاہتی ہوں۔
کلر زدہ زمین پر بارش ہو بھی جائے تو رائیگاں جاتی ہے، لیکن ٹھیک ہے، کل کھل کے برسنا، پہلی محبت کی پہلی بارش کی طرح۔
اگلے روزگل بانو اپنے میکے آئی اور سکول چلی گئی جہاں کبھی پڑھاتی تھی۔ کچھ وقت وہاں گزارنے کے بعد وہ مراد کے گھر چلی گئی۔ وہ دونوں کچھ دیرایک دوسرے کو دیکھتے رہے، پھر گلے مل کر روئے۔
گل بانو سر سے پاوں تک زیورات اورقیمتی پوشاک میں ملبوس تھی۔ اس کی شادی اپنے سے کئی گنا امیر گھرانے میں ہوئی تھی۔
اس روز گل بانو اور مراد نے کچھ وقت ساتھ گزارا۔ جاتے وقت گل بانو کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ گل بانو کی سسرال واپسی پر وہ اس سے کچھ عرصہ رابطے میں رہا لیکن اب ملاقات میں وہ تڑپ نہ رہی۔ ایک روز اس نے گل بانو کا سٹیٹس دیکھا اور اس کے بیٹے کو دیکھ کر سوچوں میں ڈوب گیا۔ ایک ملاقات کے بعد گل بانو اس سے کبھی نہیں ملی اور فون کا سلسلہ بھی آہستہ آہستہ ختم ہو گیا۔
نیند مراد کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ اسے کسی سہارے کی تلاش تھی۔ اس نے فرینڈز بک کے میسنجر کو پھر ریفریش کیا اور آن لائن فرینڈز میں کسی سہارے کو تلاش کرنے لگا۔
کیا زندگی میں صرف ایک بار سچی محبت ہوتی ہے یا ہر محبت سچی ہوتی ہے۔ وہ جتنی محبتیں کر چکا تھا ہر ایک میں تڑپ تھی۔ لیکن کیا تڑپ کا ہونا ہی سچی محبت کی علامت ہے؟ اسے یاد آتا ہے کہ اس کی تیسری محبت اسے ایک پرانے دوست کی طرف سے تحفہ کی گئی۔
دوست سے نمبر ملنے کے بعد رات گیارہ بجے اس نے شب خیر کا میسیج کیا۔
کون؟ جواب آیا۔
خوابوں کا شہزادہ، اس نے رپلائی کیا۔
تو میں کیا کروں؟ میرا نمبر کس نے دیا؟
کوئی اور ٹرائی کیا تھا، غلطی سے تمہارا لگ گیا۔ مراد نے عقلمندی سے صورتحال کو سنبھالا۔
اچھا غلطی ایک بار ہوتی ہے۔ اب مجھے تنگ نہ کرنا۔ بائے بائے۔
ٹا ٹا، مراد نے مسکراتے ہوئے ٹائپ کیا اور سینڈ کر دیا۔
اگلے روز اس نے کوئی میسیج نہ کیا، رات کے پہلے پہر ایک میسیج سے اس کے چہرے پر چمک آ گئی۔
بہت کمینے ہو تم، شاطر کھلاڑی لگتے ہو۔ کیا چاہتے ہو۔
ایک اور محبت، مراد نے سرشاری سے جواب دیا۔
تو پہلے والی کدھر گئی؟
پیا گھر۔
تو کمینے تم اس کو اپنا لیتے۔ سنو تم مجھے غصہ نہ دلاو، میری بات غور سے سنو۔ تم مجھے کوئی میسیج نہیں کرو گے، اوکے؟
اوکے؟ مراد نے رپلائی کیا۔
کچھ دیر خاموشی کے بعد مراد نے دوبارہ میسیج کیا۔ سو جاوں؟
سو جاو اور مجھے دوبارہ تنگ نہ کرنا۔ اوکے۔
طویل خاموشی، پوپھوٹنے لگی تھی۔ مراد کی آنکھ ایک میسیج سے دوبارہ کھلی۔
مجھ سے دور رہو، برباد ہو جاو گے۔
پہلے ہی ہو چکا ہوں۔
کہاں رہتے ہو؟
کچی بستی میں۔ اور تم؟
تمہارے قریب ہی، سڑک کے پار محلے میں۔
یوں باتوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا جو طلوع آفتاب تک جاری رہا۔
اگلی رات ایک بجے کے قریب وہ گھر سے نکلا اور نہر کے ساتھ ساتھ چلتا دوسرے محلے پہنچا جہاں ایک پختہ مکان کی کھڑکی میں اس کی نئی محبت منتظر تھی۔ وہ دیوار پھاند کر اندر پہنچا، وصل کے لمحات بھی کتنے عجیب ہوتے ہیں۔ پل بھر میں گزر جاتے ہیں۔ رات تین بجے کے قریب وہ فارغ ہوئے اور مراد اپنے گھر واپس آ گیا۔
سونے سے پہلے اس نے اپنے فون کو دیکھا جس میں ایک پیغام اس کا منتظر تھا۔
پیارے خوابوں کے شہزادے، یہ ہماری پہلی اور آخری ملاقات ہے، میں کسی بھی لڑکے سے ایک بار سے زیادہ نہیں ملتی۔ خوش رہنا اور مجھے میسیج کرنے کی کوشش نہ کرنا، ورنہ بلاک کر دیے جاو گے۔
یوں مراد اب پھر بے مراد ہو چلا تھا۔ لیکن کچھ دن فاقہ زدہ زندگی کے بعد فرینڈز بک میسینجر کام آیا اور یوں گلوں میں رنگ بھرنے لگے۔ اسے اب یاد بھی نہیں تھا کہ وہ ٹوٹل کتنی محبتیں کر چکا ہے۔ اور قابل رحم امر یہ کہ جب وہ اداس ہوتا تو سمجھ نہ پاتا کہ کس محبت کو یاد کر کے دل کو بہلائے۔
اس راستے میں پڑاو کم آتے ہیں اور مجنوں راستوں میں زیادہ بھٹکتا ہے۔ محبت پلیٹ میں رکھا کوئی طعام نہیں جو صبح شام میسر ہو۔ میسینجر میں فیک آئی ڈیز سے وہ بہت تنگ تھا اور اکثر کو رپورٹ اور بلاک کر چکا تھا۔ وہ باریک بینی سے پاپا کی جان، میرب ڈول، ضدی گڑیا، پرنسیس اینا، مس یو بابا جانی جیسی بیسیوں آئی ڈیز کا جائزہ لیتا اور اس کی صنم آشنا نظریں کچھ نہ کچھ پا لیتیں۔
پچھلے کئی روز سے وہ ہاتھ پیر مار رہا تھا لیکن بے سود۔ گھر کی تنہائی اسے کاٹ کھانے کو دوڑتی۔ وہ رات بھر میسنجر ٹٹولتا لیکن اب کی بار خزاں اس کو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے تھی۔ اس نے لاچاری سے میسنجر کو آخری بار چیک کیا اور غصے میں ایک مفتی کو بلاک کر دیا۔
باورچی خانے میں برتن رکھنے کی آواز آئی، بوڑھا برتن رکھنے کے بعد دوبارہ باہرپڑی چارپائی پہ لیٹ گیا۔ ہاجراں اس کی طرف تشکر بھری نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ وہ دونوں ایک ایسے بندھن میں بندھ گئے تھے جس میں شرعی ایجاب و قبول کی چنداں ضرورت نہیں ہوتی۔
مراد اب ہر طرف سے مایوس ہونے کے بعد سونے کی کوشش کرنے لگا۔ کتنا اچھا ہوتا اگر میں گل بانو سے شادی کرلیتا۔ آج اکیلے پن کو نہ بھگت رہا ہوتا۔
ماضی و حال کی راہداریوں میں بھٹکتے اس کو احساس تک نہ ہوا کہ کب اس کی آنکھ لگ گئی جو کچھ دیر بعد ایک نوٹیفیکیشن کی آواز پر کھلی۔
اس نے بھاری بھرکم آنکھوں کو پوری طاقت سے کھولتے ہوئے موبائل فون کی سکرین پر دیکھا جس پر لکھا تھا۔
” آپکی دلہن سینٹ یو آ فرینڈ ریکوئسٹ”

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے