171

وٹس ایپ کے نئے قواعد صارفین کی پرائیویسی کے لیے خطرے کی گھنٹی

ارشد فاروق بٹ
وٹس ایپ اپنے صارفین کو مجبور کر رہا ہے کہ اگر وہ مستقبل میں وٹس ایپ کا استعمال جاری رکھنا چاہتے ہیں تو ان کو فیس بک کی جانب سے نافذ کیے گئے نئے قواعد کو تسلیم کرنا ہو گا۔

ایک نوٹس کے ذریعے وٹس ایپ نے اپنے صارفین کو متنبہ کیا ہے کہ وہ نئی ہدایات پر عمل کریں یا اپنا وٹس ایپ اکاونٹ ڈیلیٹ کر کے اس کا استعمال چھوڑ دیں۔ جس پر صارفین کا محتاط اور ملا جلا رجحان جاری ہے۔

فروری 2021 سے لاگو ہونے والے ان نئے قواعد کے تحت وٹس ایپ صارفین کی معلومات فیس بک، انسٹاگرام اور دیگر کمپنیاں استعمال کر سکیں گی۔

صارفین کی کونسی معلومات استعمال کی جا سکتی ہیں؟

وٹس ایپ اپنے صارفین کی مندرجہ معلومات فیس بک، انسٹا اور مختلف کمپنیوں سے شیئر کر سکتا ہے۔

1۔ فون نمبر اور نام
2۔ کانٹیکٹس(موبائل فون میں محفوظ فون نمبرز)
3۔ موبائل فون ماڈل
4۔ آئی پی ایڈریس (انٹرنیٹ کنکشن استعمال کرنے کا مقام)
5۔ سٹیٹس اپڈیٹ
6۔ وٹس ایپ کب اور کتنی دیر کے لیے استعمال کیا گیا۔
7۔ مالی لین دین (وٹس ایپ پر کی جانے والی مالی ادائیگیاں)

صارفین کو وٹس ایپ کے ان قواعد پر اعتراض کیوں ہے؟

زیادہ وقت نہیں گزرا موبائل نمبر کی طرح وٹس ایپ بھی ایک پرائیویسی محفوظ ایپ تھی جس کا مقصد موبائل فون میں محفوظ نمبرز کے درمیان کالز، تصاویر اور ویڈیو شیئرنگ تھا۔

فیس بک کی جانب سے وٹس ایپ کو خریدنے کے بعد اس میں سٹیٹس اپڈیٹ کا فیچر متعارف کرایا گیا تاہم صارفین کی پرائیویسی اب تک محفوظ تھی۔

فروری میں لاگو ہونے والے نئے قواعد کا مطلب یہ ہے کہ فیس بک سمیت بہت سی کمپنیاں اب صارفین کے نام، فون نمبر، لوکیشن، موبائل فون ماڈل، آئی پی ایڈریس، سٹیٹس اور مالی ادائیگیوں تک رسائی حاصل کر سکتی ہیں جس سے مختلف اداروں کے وٹس ایپ گروپس کی معلومات غیر متعلقہ لوگ اور ادارے بھی حاصل کر سکیں گے۔

وٹس ایپ صارفین کی ذاتی معلومات فیس بک، انسٹاگرام و دیگر کمپنیوں کو فراہم کرنے کا پابند ہو گا جسے وہ People You May Know اور دیگر فیچرز میں استعمال کر سکیں گے جس سے خواتین کو تحفظات ہو سکتے ہیں۔

فیس بک ایک پرئیویسی محفوظ ایپ کو سوشل میڈیا ایپ کیوں بنانا چاہتی ہے؟

فیس بک نے تاحال ان تبدیلیوں اور نئے قواعد پر کوئی وضاحت جاری نہیں کی ہے۔ تاہم قرین قیاس یہی ہے کہ سوشلستان پر کاروباری جنگ جیتنے کے لیے میدان تیار کیے جا رہے ہیں۔ یہ بھی اہم ہے کہ نئے قواعد کا اطلاق یورپ اور برطانیہ پر نہیں ہو گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں